Header Ads

Header ADS

کوئٹہ میں میں خودکش دھماکا ، فائرنگ،6 اہلکارشہید ، متعدد زخمی




کوئٹہ میں میں خودکش دھماکا ، فائرنگ،6 اہلکارشہید ، متعدد زخمی

 کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ 28 فروری 2018ء): بلوچستان کے سرحدی علاقے میں نوحصار خونی تالاب میں دھماکا ہوا ہے، دھماکے کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ بھی کی گئی ہے،دھماکے میں4 ایف سی اہلکار شہید اور 8 زخمی ہوگئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان کے علاقے نوحصارخونی تالاب میں دھماکہ ہوا ہے۔دھماکے میں4 ایف سی اہلکار شہید اور8 زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ زخمیوں کوہسپتال منتقل کردیا گیاہے۔ دھماکا سرحدی علاقے کانک میں کیا گیا ہے۔ دھماکے میں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آواز دور تک سنائی دی گئی۔دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کوگھیرے میں لے لیا ہے۔ جبکہ ریسکیو ٹیموں نے امدادی کاروائیاں شروع کردیں۔ جائے دھماکہ پردھماکے کی نوعیت کا تعین کرلیا گیا ہے۔
سکیورٹی فورسز کے مطابق دھماکا خود کش تھا۔ خود کش حملہ ایف سی کے کیمپ پرکیا گیا ہے۔ دھماکے کے فوری بعد لیویز اور ایف سی فورسز نے علاقے کوگھیرے میں لے کرمشتبہ افراد کی نگرانی سخت کردی ہے۔ واضح رہے خونی تالاب کا علاقہ کوئٹہ سے 28 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
اس سے پہلے صبح کے وقت اسمنگلی روڈ پر نامعلوم افراد نے ڈی ایس پی حمیداللہ دستی کی گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں اسمنگلی روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے ڈی ایس پی حمیداللہ دستی کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ پولیس نے بتایا کہ واقعے میں ڈی ایس پی حمیداللہ دستی محفوظ رہے لیکن ان کے دونوں محافظ شدید زخمی ہوگئے۔ رضاکاروں نے دونوں زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔
 پولیس حکام نے بتایا کہ ڈی ایس پی حمیداللہ دستی گھر سے دفتر جانے کیلئے نکلے تاہم جب ان کی گاڑی اسمنگلی روڈ پر پہنچی تو وہاں پہلے سے گھات لگائے 2 حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ ڈی ایس پی حمیداللہ دستی ڈبل کیبن گاڑی کے اندر موجود ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے تاہم گاڑی کے پچھلے کھلے حصے میں ان کے چار پولیس گارڈز سوار تھے جن میں سے دو گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ بھی کی گئی تاہم دونوں حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔شہید اہلکاروں کی شناخت ظاہر اور ایوب کے نام سے ہوئی۔
 ڈی ایس پی حمیداللہ دستی نے بتایا کہ وہ اہم نوعیت کے مقدمات پر کام کررہے ہیں اور اسی سلسلے میں عدالت بھی جانا تھا جبکہ انہیں کالعدم تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں بھی دی جارہی تھیں۔فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن بھی کیا جارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 روز سے کوئٹہ شہر میں دہشتگردی کا خطرہ تھا۔ اس حوالے سے سیکیورٹی الرٹ بھی جاری کیے گئے تھے اور موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی لگائی گئی۔

No comments

Contributors

Powered by Blogger.